لندن 30اکتوبر (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) ایران کی سمندر پار آپریشنل کارروائیوں کے لیے تشکیل دی گئی ’القدس فورس‘ کے ایک کمانڈر نے منگل کے روز اعتراف کیا ہے کہ وہ عوامی نقل وحمل کے لیے استعمال ہونے والے ہوائی جہازوں میں فوجیوں اور جنگجوؤں کو شام لے جاتے رہے ہیں۔خیال رہے کہ ایرانی فضائی کمپنیوں کے طیاروں کے ذریعے شام، یمن، عراق اور خطے کے دیگر تنازعات کا شکار علاقوں میں فوجیوں، ساز وسامان اور میزائلوں کی نقل وحمل کے لیے استعمال کرنے پر امریکا اور یورپی یونین نے پابندیاں عاید کر رکھی ہیں۔خبر رساں ادارے’مہر‘ نے شام میں ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے ایک کمانڈر نصرت اللہ بور حسینی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ 'ماھان' فضائی کمپنی کے طیارے شام کو فورسز کو منتقل کرنے میں ہماری مدد کر رہے ہیں حالانکہ دمشق ہوائی اڈے پر گولہ باری کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران ہر اس ملک کی مدد کرتا ہے جس کے ساتھ اس کا دوستی کا معاہدہ ہے۔ شام ہمارا دوست اور اتحادی ہے اور ہم اس کی ہر ممکن طریقے سے مدد کر رہے ہیں۔امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کی مہان ایئر لائنز پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مہان ایئرلائن نے غیر ملکی جنگجوؤں، اسلحہ اور رقم کی نقل وحمل ایرانی پاسداران انقلاب، اس کی ملیشیاؤں اور علاقائی ایجنٹوں کی مدد کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔گذشتہ ایک سال کے دوران امریکا نے ایران کے 11 اداروں اور افراد پر مالی پابندیاں عائد کی ہیں۔ ان پر مہان ایئر کے ساتھ تعاون یا ڈیل کا الزام ہے۔ ان میں مالیاتی خدمات کے بینک، ہوائی جہاز کے پرزے خریدنے والی کمپنیاں اور عام سیلز ایجنٹ شامل ہیں جو ملائشیا، تھائی لینڈ اور آرمینیا میں اس کمپنی کی مدد کرتے رہے ہیں۔
شام میں ایران کے پاسداران انقلاب کی سرگرمیوں کے لیے مھان ایئرکو ایک بڑی سہولت کارکمپنی قرار دیا جاتا ہے۔ مھان کے زیر کنٹرول ایک تجارتی کارگو ٹرانسپورٹ کمپنی قیش فریز کو بھی انسداد دہشت گردی کے حکام کی نگرانی میں شامل کیا گیا ہے۔رواں سال جولائی میں امریکی محکمہ خزانہ نے ایرانی شہری ہواباز کمپنیوں کو پابندیوں کے ساتھ تعاون کرنے والی بین الاقوامی فرموں اور شخصیات کو خبر دار کیا تھا کہ وہ ایرانی کمپنیوں کے ساتھ تعاون سے گریز کریں ورنہ انہیں بھی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔